The need of the hour - Insaf Blog | Pakistan Tehreek-e-Insaf
Zaroorat-InsafBlog

 

صحت کا مسئلہ ہر ترقی پزیر و ترقی یافتہ ملک میں ایک سا ہی ہے.سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کے اس دور بہت ساری بیماریوں کا علاج آج ممکن ہو چکا ہے جن کی وجہ سے لوگ سیسک سیسک کر جان گنوا بیٹھتے تھے. اس ٹیکنالوجی کے دور میں بھی صحت سے متلعق سہولیات کے فقدان کی وجہ سے لوگ مر رہے ہیں. ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں تک یہ سہولیات بہم پہنچ رہی ہیں. مگر غریب اور ترقی پزیر ممالک کی حکومتیں اپنے عوامم کو یہ سہولیات دینے میں ناکام نظر آتے ہیں.پاکستان   دنیا کے انہی 195 ممالک کی فہرست میں 154 نمبر پر ہے. پاکستان ایک ترقی پزیر ملک ہے لیکن صحت کے معاملے یہ ترقی پزیر مملک کی صف میں بھی اوندھے منہ کھڑا نظر آتا ہے. پہلے تو پورے ملک میں گورنمنٹ کے  اسپتال ہی نہیں ہیں.دوسری بات اگر ہیں تو وہاں بلڈنگز کے ڈھانچے ضرور کھڑے نظر آتے ہیں  جن میں ڈاکٹر ہیں نہ دوائیاں. چند بڑے شہروں میں اگرچے اچھے اسپتال موجود ہیں. تو ہر ایک کا وہی آسرا ہیں; زیادہ تر رش کے باعث ڈاکٹر اور مریض دونوں ہی اس سے بُری طرح متاثر ہیں. بد قسمتی سے حکومتوں کی ترجہہ میں بھی یہ شعبہ شامل نہیں رہا. اگر صحت کے بجٹ کا ترقیاتی بجٹ سے موازانہ کیا جائے تو اونٹ کے منہ میں زیرا برابر ہے. 2015 -16 میں خرچ کیے کے بجٹ کا موازنہ کیا جائے تو بڑی تشوش ناک صورت حال سامنے آتی ہے. 11,413 ملین روپے صحت پر خرچ ہوئے اور ترقیاتی بجٹ میں صرف فیڈرل کا بجٹ ہی  878,677 ملین جو صحت کے بجٹ سے کئی گناہ زیادہ ہے .حال یہ ہے کہ مریضوں کو اسپتالوں میں داخل تک نہیں کیا جاتا بہت سے واقعات میں خواتین نے اسپتال کے فرشوں پر بچوں کو جنم دے دیا. آئے روز ڈاکٹرز کی ہڑتالیں جو اس کم میسر سہولت کو اور ناپید بنا دیتی ہیں. اسپتالوں میں مہنگی دوائیاں تو ملتی ہی نہیں، اسپتالوں کے باہر بنے پرائیویٹ سٹور سے منہ مانگے داموں بکنے والی دوائیاں باآسانی مل جاتی ہیں. بجٹ جو حکومتیں مختص کرتی ہیں وہ پورا بھی لگا نہیں پاتیں. ہیلھ کیرئیر کا عملہ بھی اس چکی میں ساتھ ہی پستا ہے. ایک فرائض سے بڑھ کر ڈیوٹیاں نبھانا پڑتی ہیں تو دوسرا ان کی تنخواہیں بھی کم ہیں.
جہاں کرپشن نے باقی شعبوں کو متاثر کیا یقیناً یہ شعبہ بھی اس ناسور کی زد میں آیا ہے.
سوال یہ بنتا ہے جہاں اتنے مسائل ہوں علاج کس سے شروع کیا جائے? پہلے تو صحت عامہ کے لیے مختص بڄٹ میں اضافہ کیا جانا چاہیے. تاکہ بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ زیادہ تعداد میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں میسر ہوں. پالیسی بنائی جائے جس میں ہیلتھ کیئر ڈیپاٹمنٹ کے ملازمین کے فرائض کے ساتھ ساتھ حقوق کو بھی وضع کیا جائے. خصوصاً اخلاقی تربیت کا پہلو ڈاکٹرز کی تعلیم کا طرہ امیتاز ہونا چاہے. حکومت کو ہیلتھ انشورنس کارڈ کی سہولیات جیسے پروگرامز کو مزید وسعت دینی چاہے.